مراد آباد،21؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) نام نہاد لو جہاد کے الزام میں بلا وجہ 15؍دن کی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد سنیچر کو گھر لوٹنے والے رشید کی پنکی سے شادی کی خبر کسی اور نے نہیں بلکہ اُس وکیل نے بجرنگ دل کے غنڈوں کو دی تھی جس سے وہ رجسٹریشن کے تعلق سے قانونی صلاح ومشورہ کیلئے گئے تھے۔
متاثرہ خاندان اب تک 4؍دسمبر اوراس سے قبل کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ سب کیسے ہوگیا۔ رشید کے بھائی سلیم نے معاصر انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کوبتایا کہ’’ ہم تو صحیح کام کررہے تھے، شادی کا رجسٹریشن کروانے گئے تھے۔‘‘ ان کی والدہ جواپنے دونوں بیٹوں کے بحفاظت گھر لوٹ آنے سے خوش ہیں، نے بیچ میں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’’اس دن ہم ایک وکیل سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد واپس آرہے تھے۔ میرے بیٹے کی شادی 5؍ ماہ پہلے ہوگئی تھی۔ وکیل نے ہم سے پیسے لئے او رپھر ہمارے بارے میں بجرنگ دل کو خبر کردی۔‘‘
ذرائع کے مطابق وکیل کا بھائی بجرنگ دل کا رُکن ہے۔ سلیم نے بتایا کہ ’’رام لیلا میدان کے پاس بجرنگ کے لوگوں نے ہمیں روک لیا۔ ہمارے ساتھ بدسلوکی کی اور زبردستی پولیس اسٹیشن لےگئے۔‘‘رشید نے بتایا کہ ’’مجھے بعد میں فون آیا ۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیاتھا اس لئے بلانے پر میں بھی پولیس اسٹیشن چلا گیا مگر انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو حراست میں لے لیا۔‘‘ ان کی ماں نے بتایا کہ’’ پولیس اسٹیشن میں بہت کچھ ہوا۔ ہماری بچی بولتی رہی کہ اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا ہے اور یہ کہ اس کے پاس کاغذات ہیں یہ ثابت کرنے کیلئے کہ ان کی شادی ہوچکی ہے مگر کوئی سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔‘‘